*نہ جانے کون سی سازشوں کا ہم شکار ہوگئے* *کہ جتنے صاف دل تھے اتنے ہی داغ دار ہوگئے*

*نہ جانے کون سی سازشوں کا ہم شکار ہوگئے*

*کہ جتنے صاف دل تھے اتنے ہی داغ دار ہوگئے*

0 comments:

Post a Comment