میں سگریٹ کو ہتھیلی پر الٹ کر خالی کرتا ہوں
پھر اس میں ڈال کر یادیں تمھاری خوب ملتا ہوں
ذرا سا غم ملاتا ہوں
ہتھیلی کو گھماتا ہوں
بسا کر تجھ کو سانسوں میں
میں پھر سگریٹ بناتا ہوں
لگا کر اپنے ہونٹوں سے
محبت سے جلاتا ہوں
تجھے سلگھا کے سگریٹ میں
میں تیرے کش لگاتا ہوں
دھواں جب میرے ہونٹوں سے نکل کر رقص کرتا ہے
میرے چاروں طرف کمرے میں تیرا عکس بنتا ہے
میں اس سے بات کرتا ہوں
وہ مجھ سے بات کرتا ہے
یہ لمحہ بات کرنے کا بڑا انمول ہوتا ہے
تیری یادیں تیری باتیں بڑا ماحول ہوتا ہے
میں سگریٹ کو ہتھیلی پر الٹ کر خالی کرتا ہوں Urdu poetry
Subscribe to:
Post Comments
(
Atom
)




0 comments:
Post a Comment